Feeds:
پوسٹیں
تبصرے

Qamrul Tamam Fi Nafi alZill an Sayyidal Anaam

قمر التمام في نفي الظل عن سيدالانام

سرور عالم سے سایہ کی نفی میں کامل چاند



Click Here For Read

پروگرامات ، خبریں وغیرہ

Programaat News Etc

Click Here 

Hudiyul Hairan Fi Nafi alFai An Sayyidil Akwaan

 هدي الحيران في نفي الفئي عن سيد الاكوان

سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے سایہ کی نفی کے بارے میں  حیرت زدہ کے لئے راہنمائی

  Click Here For Read  

 

بانی دیوبندی مذہب محمد قاسم نانوتوی

1۔ دیوبندی حکیم الامت اشرف علی تھانوی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب (نانوتوی) دہلی شریف رکھتے تھے۔ اور ان کے ساتھ مولانا احمد حسن امروہوی اور امیر شاہ خان صاحب بھی تھے شب کو جب سونے کے لئے لیٹے تو ان دونوں نے اپنی چارپائی ذرا الگ کو بچھالی، اور باتیں کرنے لگے۔ امیر شاہ خان صاحب نے مولوی صاحب سے کہا کہ صبح کی نماز ایک برج والی مسجد میں چل کر پڑھیں گے، سنا ہے کہ وہاں کے امام قرآن شریف بہت اچھا پڑھتے ہیں۔ مولوی صاحب نے کہا کہ ارے پٹھان جاہل (آپ میں بے تکلفی بہت تھی) ہم اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے وہ تو ہمارے مولانا (نانوتوی) کی تکفیر کرتا ہے۔ مولانا (نانوتوی) نے سن لیا اور زور سے فرمایا۔ احمد حسین میں تو سمجھا تھا تو لکھ پڑھ گیا ہے مگر جاہل ہی رہا۔ پھر دوسروں کو جاہل کہتا ہے۔ ارے کیا قاسم کی تکفیر سے وہ قابل امامت نہیں رہا میں تو اس سے اُس کی دینداری کی معتقد ہوگیا۔ اس نے میری کوئی ایسی ہی بات سنی ہوگی جس کی وجہ سے میری تکفیر واجب تھی۔ گو روایت غلط پہنچی ہو، تو یہ راوی پر الزام ہے۔ تو اس کا سبب دین ہی ہے اب میں خود اس کے پیچھے نماز پڑھوں گا۔ غرضیکہ صبح کی نماز مولانا (نانوتوی) نے اس کے پیچھے پڑھی۔ (افاضت الیومیہ ج 4 / 394 طبع ملتان)

نانوتوی صاحب کے نزدیک جاہل تو وہی ہے جو نانوتوی کی تکفیر کرنے والے کو برا کہتا ہے۔ تو بتائیے کہ سیدی اعلٰی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ پر کیا وجہ اعتراض ہے۔

2۔ تحذیرالناس پر جب مولانا (نانوتوی) پر فتوے لگے، تو جواب نہیں دیا: یہ فرمایا کہ کافر سے مسلمان ہونے کا طریقہ بڑوں سے یہ سنا ہے۔
کہ بندہ کلمہ پڑھنے سے مسلمان ہو جاتا ہے تو میں کلمہ پڑھتا ہوں۔
لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ
( افاضات الیومیہ، ج4 صفحہ 395 طبع ملتان، ج8 صفحہ 238 )

الفضل ماشھدت بہ الاعداء
اب آپ ہی بتائیے کہ حضور اعلٰیحضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے جو حکم شرعی واضح کیا۔ اس میں آپ کا کیا قصور ہے ؟ ضمناً آپ کو یہ بھی عرض کروں، کہ بانی دیوند قاسم نانوتوی کی وجہ تکفیر کیا ہے۔ اس لئے کہ دیوبندی حضور اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کو نعوذ باللہ مکفرالمسلمین کہتے پھرتے ہیں۔ حالانکہ دیوبندی مذہب کی بنیادی کتب “تقویۃ الایمان، فتاوٰی رشیدیہ، بہشتی زیور“ وغیرہ سے واقف حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ مکفرالمسلمین اعلٰی حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ نہیں۔ بلکہ یہی دیوبندی اکابر ہیں۔ ان کے شرک و کفر کے فتوؤں سے کوئی بھی محفوظ نہیں، نہ ہی انبیاء و اولیاء اور نہ ہی کوئی اور، تو لیجئے سنئیے:۔ کہ نانوتوی صاحب کی وجہ تکفیر کیا ہے اور وہ وجہ یہ ہے کہ بانی دیوبند قاسم نانوتوی نے اہل اسلام کے اجتماعی عقیدہ ختم نبوت کا انکار کیا ہے اور خاتم النبیین کے معنی میں تحریف کی ہے۔ نانوتوی کی چند ایک عبارات ہدیہ قارئین کی جاتی ہیں۔

بانی دیوبند قاسم نانوتوی لکھتے ہیں:
سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلعم کا خاتمہ ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں۔ مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تآخر زمانہ میں بالذات کچھ فضیلت نہیں، پھر مقام مدح میں ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین فرمانا اس صورت میں کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے۔ (تحذیر الناس صفحہ3 طبع دیوبند)
اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلعم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ (تحذیرالناس صفحہ 28 طبع دیوبند)
آپ موصوف بوصف نبوت بالذات ہیں اور سو آپ کے اور نبی موصوف بوصف نبوت العرض۔ (تحذیرالناس صفحہ4 طبع دیوبند)
تمام اہل اسلام خاتم النبیین کا معنی آخری نبی کرتے ہیں اور کرتے رہے مگر نانوتوی نے اسے جاہل عوام کا خیال بتایا۔ یہ تحریف فی القرآن ہے۔ پھر حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبی پیدا ہونے کو خاتمیت محمدی، حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی ہونے میں کوئی فرق نہ پڑنا بتایا جو کہ ختم نبوت کا انکار ہے۔ واضح طور پر خاتم النبیین کا ایسا معنی تجویز کیا گیا جس سے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوٰی نبوت کا رستہ ہموار ہو گیا اور مرزائی اپنی حمایت میں آج بھی تحذیرالناس پیش کرتے ہیں تو دیوبندی اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ہیں۔ قادیانیوں نے اس پر مستقل رسالہ بھی لکھ کر شائع کیا ہے۔ “افادات قاسمیہ“ نبوت کی تقسیم بالذات بالعرض نانوتوی کی ایجاد ہے۔
تحذیرالناس کی تمام کفریہ عبارات کی تردید مدلل و مفصل کے لئے غزالی زماں حضرت مولانا احمد سعید کاظمی علیہ الرحمہ کی کتاب “التبشیر برد التحذیر“ ، شیخ القرآن مولانا غلام علی اوکاڑوی علیہ الرحمۃ کی کتاب “التنویر“ اور ماہنامہ کنزالایمان کا ختم نبوت نمبر اور راقم الحروف فقیر کی کتاب “عبارات تحذیرالناس پر ایک نظر“ اور “مسئلہ تکفیر“ میں ملاحظہ کیجئے اختصار مانع ہے صرف ایک حوالہ دیوبندی مذہب کا ہی حاضر خدمت ہے۔ دیوبندی حکیم الامت اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں:
جب مولانا محمد قاسم صاحب۔۔۔۔۔۔۔ نے کتاب تحذیرالناس لکھی تو سب نے مولانا محمد قاسم صاحب کی مخالفت کی بجز مولانا عبدالحئی صاحب نے۔ (قصص الاکابر صفحہ 159 طبع جامعہ اشرفیہ لاہور)
جس وقت مولانا نے تحذیرالناس لکھی ہے کسی نے ہندوستان بھی میں مولانا کے ساتھ موافقت نہیں کی بجز مولانا عبدالحئی صاحب کے۔ (افاضات الیومیہ ج5 صفحہ 296 طبع ملتان)

ِنحمدہ و نصلی ونسلم علی رسولہ الکریم

اما بعد ! امام اہل سنت مجدد دین و ملت کشتہء عشق رسالت شیخ الاسلام و المسلمین امام عاشقان حضرت امام محمد احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ علم و دانش کے سمندر تھے۔ ان کے علم کی ایک جھلک دیکھ کر علمائے عرب و عجم حیران رہ گئے۔ محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے تقریباً تمام علوم و فنون پر اپنی تصانیف یادگار چھوڑی ہیں۔
وہ جامع علوم و فنون شخصیت کے مالک تھے۔ محدث بریلوی ایک عقبری شخصیت تھے۔ آپ نے پوری شدت و قوت کے ساتھ بدعات کا رد کیا اور احیاء سنت کا اہم فریضہ ادا کیا۔ علماء عرب و عجم نے آپ کو چودہویں صدی کا مجدد قرار دیا۔
محبت و عشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم محدث بریلوی علیہ الرحمۃ کا طرہء امتیاز تھا یہی ان کی زندگی اور یہی ان کی پہچان، وہ خود فرماتے ہیں کہ میرے دل کے دو ٹکڑے کئے جائیں تو ایک پر لاالہ الا اللہ اور دوسرے پر محمد رسول اللہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) لکھا ہوگا آپ کا لکھا ہوا سلام
مصطفٰے جان رحمت پہ لاکھوں سلام
پوری دنیا میں پڑھا جاتا ہے۔
آپ کی کتب کی ایک ایک سطر سے عشق رسول کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ کے عشق رسول کا اپنے ہی نہیں بیگانے بھی موافق ہی نہیں مخالف بھی دل و جان سے اقرار کرتے ہیں۔ آپ نے رسول کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بے ادب گستاخ فرقوں کا پوری قوت سے قلع قمع کرنے کے لئے جہاد فرمایا۔ دیوبندی کوثر نیازی مولوی کے بقول بھی “جسے لوگ امام احمد رضا بریلوی کا تشدد کہتے ہیں وہ بارگاہ رسالت میں ان کے ادب و احتیاط کی روش کا نتیجہ ہے۔ آپ کو ہر فن میں کامل دسترس حاصل تھی۔ بلکہ بعض علوم میں آپ کی مہارت حد ایجاد تک پہنچی ہوئی تھی۔“
آپ کے رسالہ مبارک الروض البمیج فی آداب التخریج کے متعلق لکھتے ہیں۔ کہ اگر پیش ازیں کتابے وریں فن نیافتہ شودپش مصنف راموجد تصنیف ہذامی تواں تفت (تذکرہ علمائے ہند فارسی صفحہ 17)
ترجمہ :۔ اگر (فن تخریج حدیث میں) اور کوئی کتاب نہ ہو، تو مصنف کو اس تصنیف کا موجد کہا جا سکتا ہے۔
علم توقیت میں اس قدر کمال حاصل تھا کہ دن کو سورج اور رات کو ستارے دیکھ کر گھڑی ملا لیا کرتے تھے وقت بالکل صحیح ہوتا اور ایک منٹ کا بھی فرق نہ ہوتا۔
علم ریاضی میں بھی آپ کو حد سے زیادہ اعلٰی درجہ کی مہارت حاصل تھی کہ علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ریاضی کے ماہر ڈاکٹر سر ضیاء الدین آپ کی ریاضی میں مہارت کی ایک جھلک دیکھ کر انگشت بدندان رہ گئے۔
علم جفر میں بھی محدث بریلوی علیہ الرحمۃ یگانہء روزگار تھے۔
الغرض اعلٰی حضرت محدث بریلوی تمام علوم و فنون پر کامل دسترس رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ آپ دینی اور ہر قسم کے علوم و فنون کے ماہر تھے۔
اعلٰی حضرت فاضل بریلوی پاک و ہند کے نابغہء روزگار فقہیہ، محدث، مفسر اور جامع علوم و فنون تھے۔ مگر افسوس کہ ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ حضور سیدنا مجدد اعظم محدث بریلوی جتنی عظیم المرتبت شخصیت تھے آپ اتنے ہی زیادہ مظلوم ہیں اور اس ظلم میں حامی و مخالف سبھی شامل ہیں جو آپ سے محبت کا دعوٰی کرتے ہیں مگر انہوں نے آپ کی شخصیت کا عوام کے سامنے اجاگر نہیں کیا۔ آپ کی عظمت پر بہت معمولی کام کیا۔ بلکہ کئی مکار لوگوں نے آپ کا نام لیکر آپ کو ناحق بدنام کیا۔ جتنا اعلٰی حضرت فاضل بریلوی نے گمراہی اور بدعات کا قلع قمع کیا، اتنا ہی بدعات کو رواج دے کر حضور اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کو بدنام کیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف آپ کے مخالفین نے اس علمی شخصیت کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔ آپ پر بے بنیاد الزامات کے انبار لگا دئیے گویا اعلٰی حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی عظیم عبقری شخصیت اپنوں کی سرد مہری اور مخالفین کے حسد اور بغض و عداوت کا شکار ہو کر رہ گئی اور یہی ایک بہت بڑا المیہ ہے مگر یہ تو واضح ہے کہ حقیقت کو بدلا نہیں جا سکتا۔ اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کے علمی رعب و دبدبہ کا یہ حال تھا کہ آپ کے کسی مخالف کو آپ سے مناظرے کی جراءت نہ ہو سکی۔ جوں جوں تحقیق ہوئی۔ اعلٰی حضرت محدث بریلوی کی شخصیت اپنی اصلی حالت میں نمایاں ہوئی اور ان کے علم و فضل کا چرچا از سر نو شروع ہو گیا اور صرف اپنے ہی نہیں بیگانے بھی حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے۔ آج بھی لوگ آپ کے متعلق عوام کو غلط تاثر دیتے ہیں۔
ہم دیوبندی وہابی مذہب کے اکابرین کے تاثرات اس رسالے میں جمع کر رہے ہیں تاکہ عوام کو معلوم ہو جائے کہ دیوبندی وہابی جو محدث بریلوی کے متعلق ہرزرہ سرائی کرتے ہیں غلط ہے۔ مطالعہ بریلویت وغیرہ کتابیں لکھ کر طوفان بدتمیزی برپا کرنے والے لوگ صرف بہتان ترازی اور بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں۔ حقیقت سے ان کا کچھ تعلق نہیں۔ ان لوگوں کو کم از کم اپنے ان اکابرین کو ان اقوال کو پیش نظر رکھنا چاہئیے۔ مولٰی تعالٰی حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ جلیلہ سے مذہب حق اہل سنت و جماعت (بریلوی) پر استقامت اسی پر زندگی اور اسی پر موت عطا فرمائے۔ (آمین)

اعتراض : احمد رضا کو اپنے والدین کا رکھا ہوا نام پسند نہ تھا وہ عبد المصطفٰی لکھتے جوکہ ناجائز ہے

جواب :  پسند نہیں یہ کہاں لکھا ہے ؟ وہ تو احمد رضا ہی لکھتے عبد المصطفٰی کا اضافہ فرمایا اور یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور حاجی امداد اللہ نے ایسا نام جائز لکھا شمائم امدادیہ میں لگاؤ فتوٰی حاجی صاحب پر

اعتراض :: احمد رضاخان کا رنگ سیاہ تھا

جواب :: تم تو سن کہ کہہ رہے ہو دیکھنے والوں نے بتایا ہے کہ وہ سرخ و سفید رنگ کے مالک تھے